کہانی چار ایسے مرکزی کرداروں کے گرد گھومتی ہے جن کی عمریں پچاس سے ساٹھ سال کے درمیان ہیں اور جو کسی نہ کسی نوعیت کے فراڈ کے نتیجے میں اپنا تمام تر سرمایہ حیات گنوا بیٹھنے کے صدمے سے دوچار ہیں اور اپنے اپنے گھر والوں کے طعنوں تشنوں سے دلبرداشتہ ہو کررات کے اندھیرے میں خود کشی کے ارادے سے شہر ایک ہی مقام کی طرف ریلوے لائن کی طرف بڑھ رہے ہیں -
یہ محض اتفاق ہے کہ وہ چاروں تھکے اور بوجھل قدموں سے ایک ہی جگہ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ٹرین آنے سے پہلے انہیں ایک دوسرے کی موجودگی کا احساس ہو جاتا ہے - وہ ایک دوسرے سے بات کرتے ہیں اور اپنی اپنی بپتا سنا کر خوب روتے ہیں اور دل کی بھڑاس نکل جانے پر یہ طے کرتے ہیں چاروں مل کر کچھ ایسا کام کریں گے جس سے ان کی کوتاہیوں کا کفارہ بھی ہو جائے اور وہ اپنے اپنے گھر والوں کے سامنے سرخرو بھی ہو سکیں -
جیبوں میں چند سو روپوں پر مشتمل مشترکہ سرمایہ لے کر وہ قریبی بستی کی طرف بڑھتے ہیں اور پھر غیرمتوقع واقعات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے جس میں کبھی بہت دکھ ہے اور کبھی بہت خوشی ہے - سسپنس بھی ہے، ایڈونچر بھی، غیر یقینیت بھی ہے اور خوابوں کی تکمیل بھی - ہنسی مذاق بھی ہے اور بے حد سنجیدگی بھی -
یوں کہانی آگے بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ ان سب کے گھر والے ان کو ٹی وی پر دیکھ کر حیران بھی ہوتے ہیں اور ان کی کامیابیوں پر خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں اور آخر میں چاروں خاندان آپس میں رشتے داری قائم کر کے ہمیشہ کے لئے محبت و اخوت کے بندھن میں بندھ جاتے ہیں -

Post a Comment